Παρασκευή 5 Απριλίου 2024

Urdu poetry by Sana Khan

 



”کرب“    
کچھ ان کہی سی ہے داستاں!!! 
اور بے وجہ سی ہے زندگی!! 
 کبھی لفظ ملتے نہ بات میں!!! 
کبھی کھوکلی سی ہے ہر خوشی!! 
کبھی سانس لینا دشوار ہے!!! 
کبھی ہر پل دل میں بیکلی!! 
 نا گزر ہے تازہ ہوا کا یہاں!!!
نا کہیں ہے تھوڑی سی روشنی!! 
کٹے کیسے زندگی کا یہ سفر!!! 
کہ ہر قدم تھکن اور کٹھن ڈگر!! 
کوٸی روزن ہوا کا بنے یہاں!!! 
کبھی چمکے تجلی کی روشنی!!
کوٸی منتر ملے خوش بخت نصیب کا!!! 
کوٸی رہنما ہو راہِ حیات کا!! 
کہ چلے وہ یوں پھر ہم قدم!!! 
کہ مٹ جاٸیں ساری ظلمتیں!! 
کہ فنا ہوجاٸیں ساری اذیتیں!!! 
کہ دفن ہوں سارے رنج و غم!! 
کہ نصیب ہوں ہر سو راحتیں!!! 
ملے ایسا جو سفرِ انیس ہو!! 
جو ہر پہر دل کے قریب ہو!!! 
کہ سکوں پذیر ہوں اسکی رفاقتیں!! 
کہ مٹ جاٸیں روح و جاں کی حسرتیں!!! 
مگر یہ بھی ممکن ہے کہاں!! 
یہ دنیا غرض کی جاہ ہے!!! 
یہاں ہر پل جینا اک سزا ہے!! 
یہاں ملتا نہ کوٸی رہنما!!! 
یہاں ہر قدم مایا کی چاہ ہے!! 
چلو اب چلتے ہیں اس نگر سے ہم!!!
کہ یہاں قدر نہیں ہے وفا کی!! 
یہاں فقط ہے اونچی شان جفا کی!!! 
چلو یہ بھی اچھا ہوگیا!!!!!!!!! 
کہ حقیقتیں پھر یوں عیاں ہوٸیں!!! 
کہ خوش فہمیاں دل کی فنا ہوٸیں!! 
یہ بھرم لبِِ دم قاٸم رہا!!! 
کہ وہ ہماری ان کہی داستاں!!!!!!!
 ہمارے دل میں ہی دبی رہی!!!!!!!!
ثنا۶خان.......








Δεν υπάρχουν σχόλια:

Δημοσίευση σχολίου