غزل
وقت بندش ہے بشر آزاد ہے
سِیپ کے اندر گُہر آزاد ہے
کھینچ لایا ہوں گھڑی کے ظرف سے
اب مِری شام و سحر آزاد ہے
آپ کیا سمجھے کسی نے کیا کہا
بات کوئی ہے اثر آزاد ہے
مَیں نے پگڑی کی بجائے شان سے
سر اُٹھایا ہے کہ سر آزاد ہے
شاعری الہام کی صورت نہیں
دیکھ قاسم ؔ یہ ہنر آزاد ہے
علیم قاسم ؔ

Δεν υπάρχουν σχόλια:
Δημοσίευση σχολίου