Τρίτη 26 Μαΐου 2026

Urdu poetry by Aleem Qasim



 غزل


وقت بندش ہے بشر آزاد ہے 
سِیپ کے اندر گُہر آزاد ہے

کھینچ لایا ہوں گھڑی کے ظرف سے
اب مِری شام و سحر آزاد ہے

آپ کیا سمجھے کسی نے کیا کہا 
بات کوئی ہے اثر آزاد ہے

مَیں نے پگڑی کی بجائے شان سے 
سر اُٹھایا ہے کہ سر آزاد ہے

شاعری الہام کی صورت نہیں 
دیکھ قاسم ؔ یہ ہنر آزاد ہے

علیم قاسم ؔ









Δεν υπάρχουν σχόλια:

Δημοσίευση σχολίου