Τρίτη 22 Νοεμβρίου 2022

A poem in Urdu by Namra Malik from Pakistan

 Namra Malik is a poetess who was born on September 12,1999 in Tehsil Samundri, Faisalabad, Pakistan. She is a poet of compassionate writings.Her pen is blessed with mighty ink of sentimental words.Her poems express her love for nature. She is a poet of love, sensitive soul,faithful expressions and worthy meanings.Somehow, it's also observed that she has a painful heart.



خود کو اپنی ہی کہانی میں گمنام کیا
آج یہ قصہ بھی میں نے تمام کیا 

کچھ لفظ رو رہے تھے میرے وصال پر 
تھا جن کو کبھی میں نے تکیہ کلام کیا 

کچھ ناحق خوش بھی تھے مجھے نہ پا کر
وہ جنہوں نے میرے بعد ہی دوام کیا 

تم سے بچھڑے تو پھر کسی کو دوا نہ دی
ہم نے جس کو بھی کیا فقط سلام کیا

چپ کی پناہ میں دے دئیے کئی خواب میں نے
کچھ خواہشوں کو یوں ہی پھر سر عام کیا

میرے غم کا ملنے لگا پھر معاوضہ مجھے
کچھ جزبات کو اس طرح بھی نیلام کیا

اب کی بار کچھ لکھنے کو نہیں باقی 
اب کی بار جو کیا فقط آرام کیا 

*نمرہ ملک*













Δεν υπάρχουν σχόλια:

Δημοσίευση σχολίου